حدیث نمبر: 38253
٣٨٢٥٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (أن) (١) أبا ثامر] (٢) كان رجلا عابدا، فنام ذات ليلة قبل أن يصلي العشاء، فأتاه ملكان أو رجلان في منامه، فقعد أحدهما عند رأسه، والآخر (عند) (٣) رجليه، فقال الذي عند رأسه للذي عند رجليه: الصلاة قبل النوم [ترضي الرحمن وتسخط الشيطان، وقال الذي عند رجليه للذي عند رأسه: (إن) (٤) النوم قبل الصلاة] (٥) يرضي الشيطان ويسخط الرحمن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے مروی ہے کہ ابوثامر ایک عابد آدمی تھے تو ایک دن نماز عشاء پڑھنے سے قبل سوگئے۔ تو ان کے پاس دو فرشتے آئے یا دو آدمی خواب میں آئے اور ایک ان میں ان کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر سر والے نے پاؤں والے سے کہا کہ سونے سے قبل نماز پڑھنا رحمن کو راضی کرتا ہے اور شیطان کو ناراض کرتا ہے۔ اور پاؤں والے نے سر والے سے کہا کہ نماز سے قبل سوجانا یہ شیطان کو راضی کرتا ہے اور رحمن کو ناراض کرتا ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (بن).
(٢) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [أ].
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].