حدیث نمبر: 38251
٣٨٢٥١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي ثامر زعم أن امرأة قالت: واللَّه لا يعذبني اللَّه أبدا، ما سرقت، ولا زنيت، ولا قتلت ولدي، ولا أتيت ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن، فرأت في المنام أنه قيل لها: (قومي) (١) إلى مقعدك من النار يا مقللة الكثير (و) (٢) مكثرة القليل، وآكلة لحم الجار (الغريب) (٣) بالغيب، قالت: يا رب بل أتوب، بل أتوب.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوثامر فرماتے ہیں کہ غالباً کسی عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب نہیں دیں گے کیونکہ میں نے نہ کبھی چوری کی اور نہ ہی کبھی زنا کیا اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی اولاد کو قتل کیا اور نہ میں نے کوئی اپنی طرف سے الزام تراشا ہے تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا جا رہا ہے کہ ” اٹھ اور اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اے کم کو زیادہ اور زیادہ کو کم کرنے والی، اے پوشیدہ طور پر غریب پڑوسی کا گوشت کھانے والی، تو اس نے عرض کی کہ اے میرے رب بلکہ میں رجوع کرتی ہوں، میں رجوع کرتی ہوں۔
حواشی
(١) في [س]: (قولي).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (بالغريب)، وفي [ع]: (القريب).