٣٨٢٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن طلحة قال: قيل: من الذي يسمن في الخصب والجدب؟ ومن الذي يهزل في الخصب والجدب؟ ومن الذي هو أحلى من العسل ولا ينقطع؟ قال: أما الذي يسمن في الخصب ⦗٤٨⦘ والجدب فالمؤمن الذي إن أعطي شكر، وإن ابتلي صبر، وأما الذي يهزل في الخصب والجدب فالكافر أو الفاجر إن أعطي لم يشكر، وإن ابتلي لم يصبر، وأما الذي هو أحلى من العسل ولا ينقطع (فهي) (١) ألفة اللَّه التي ألف بين قلوب المؤمنين.حضرت طلحہ سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو قحط اور فراوانی دونوں حالتوں میں پھلتی پھولتی ہے ؟ اور وہ کون سی شے ہے جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے ؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو شہد سے بھی میٹھی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں پھلتی اور پھولتی ہے وہ مومن ہے کہ اگر اس کو مل جائے تو شکر کرتا ہے اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر کرتا ہے اور وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے وہ کافر ہے یا گناہ گار شخص ہے کہ جس کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتا اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر نہیں کرتا۔ اور وہ چیز جو شہد سے بھی زیادہ میٹھی اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ کی الفت ہے جس نے تمام مومنین کے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے۔