حدیث نمبر: 38244
٣٨٢٤٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار قال: سألت جابر بن زيد قلت قول اللَّه (تعالى) (١): ﴿وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا (٧٤) إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: ٧٤ - ٧٥]، (ما ضعف الحياة وضعف الممات قال جابر: ضعف عذاب الدنيا وضعف عذاب الآخرة: ﴿ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا﴾) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے اللہ کے ارشاد { وَلَوْلاَ أَنْ ثَبَّتْنَاک لَقَدْ کِدْت تَرْکَنُ إلَیْہِمْ شَیْئًا قلِیلاً إذًا لأَذَقْنَاک ضِعْفَ الْحَیَاۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَک عَلَیْنَا نَصِیرًا } میں ضعف الحیات اور ضعف الممات کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ دنیا کے عذاب کا دگنا اور آخرت کے عذاب کا دگنا مراد ہے۔ پھر تو اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) سقط من: [جـ].