حدیث نمبر: 38243
٣٨٢٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد قال: أخبرنا ثابت أن أبا بكر كان يتمثل هذا البيت: ⦗٤٦⦘ لا (تزال) (١) (تنعى) (٢) (حبيبا) (٣) حتى تكونه … وقد يرجو الفتى (رجا) (٤) يموت دونه (٥)مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ثابت نے بتایا ہے کہ ابوبکر کی مثال شعر کی سی ہے۔ ” تو ہمیشہ اپنے محبوب کو پکارتا رہا۔ یہاں تک کہ تو خود محبوب بن گیا، اور کبھی انسان ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے کہ اس کے حصول سے قبل اس کو موت آجاتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (تزل).
(٢) في [ع]: (تبغي).
(٣) في [س]: (حبيبها)، وفي الزهد لأحمد (ص ١١٣): (ميتًا).
(٤) في [هـ]: (الرجا).
(٥) منقطع؛ ثابت لم يدرك أبا بكر، وأخرجه أحمد في الزهد ص ١١٣، وابن سعد في الطبقات ٣/ ١٩٨، وأبو نعيم في جزء أشيب (٣٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٥٩٩)، وابن عساكر ٣٠/ ٤٢٣.