حدیث نمبر: 38228
٣٨٢٢٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو هلال محمد بن سليم (الراسبي) (١) عن (الحسن) (٢) (٣) قال: قال أبو الصهباء: طلبت المال من حله فأعياني إلا رزق يوم بيوم، فعلمت أنه قد خير لي، وأيم اللَّه ما من عبد أوتي رزق يوم بيوم فلم يظن أنه (قد) (٤) خير له إلا كان عاجزا أو غبي الرأي (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالصہبا فرماتے ہیں کہ میں نے مال کو حلال طریقہ سے تلاش کیا تو اس نے مجھے تھکا دیا سوائے یومیہ روزی کے تو میں نے جان لیا کہ میرے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم جس شخص کو یومیہ روزی دی جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے تو وہ شخص ناقص رائے رکھتا ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (الرازي).
(٢) في [ع]: (الحسين).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: زيادة (في قوله).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) تقدم أثر الحسن ١٣/ ٥٠٠ برقم [٣٩٧٣١]، وانظر: حلية الأولياء ٢/ ٢٤١، وشعب الإيمان (١٢٨٧)، والزهد لابن المبارك (٥٦٥).