حدیث نمبر: 38227
٣٨٢٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبد اللَّه بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله (تعالى) (١): ﴿فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ﴾ [الصافات: ١٤٢]، قال: لما التقمه ذهب به حتى وضعه في الأرض السابعة، فسمع الأرض تسبح، قال: فهيجته على التسبيح فقال: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أنت سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: ٨٧]، قال: فأخرجه حتى (ألقاه) (٢) على الأرض بلا شعر ولا ظفر مثل الصبي المنفوس، فأنبت اللَّه عليه شجرة تظله، ويأكل من تحتها من حشرات الأرض، فبينما هو نائم تحتها (فتساقط) (٣) عليه ورقها قد يبست، فشكى ذلك إلى ربه، فقيل له: أتحزن على شجرة، ولا تحزن على مائة ألف أو يريدون (قد) (٤) يعذبون (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب پیغمبر کو مچھلی نے نگل لیا تو ان کو ساتویں زمین میں لے جا کر رکھ دیا۔ وہاں انہوں نے زمین کو تسبیح کرتے ہوئے سنا۔ اس بات نے ان کو تسبیح کرنے پر برانگیختہ کیا تو انہوں نے { لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنَ الظَّالِمِینَ } کہنا شروع کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مچھلی نے پیغمبر کو نکالا اور زمین پر بغیر بالوں اور ناخنوں کے پیدائشی بچہ کی طرح ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک درخت سایہ کرنے کے لیے ان کے پاس اگا دیا۔ اور وہ اس درخت کے نیچے کیڑے مکوڑے کھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ اس درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے کہ اس درخت کا ایک پتہ جو کہ خشک ہوچکا تھا گرا تو پیغمبر علیہ السلام نے اپنے رب سے اس کی شکایت کی تو ان کو جواب ملا کہ تو ایک درخت پر تو بہت غمگین ہوتا ہے اور ایک لاکھ یا اس سے زائد پر غمگین کیوں نہیں ہوتا جن کو عذاب دیا جارہا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) في [جـ]: (ألقته).
(٣) في [س]: (فتساطت)، وفي [أ، ب، هـ]: (فتساقطت).
(٤) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38227
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن مسلم بن هرمز، وأخرجه ابن جرير ٢٣/ ١٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38227، ترقيم محمد عوامة 36638)