حدیث نمبر: 38219
٣٨٢١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: من عادى أولياء اللَّه فقد آذن اللَّه بالمحاربة، ومن (حالت) (١) شفاعته (دون) (٢) حد من حدود اللَّه فقد ضاد اللَّه في أمره، ومن أعان على خصومة لا علم له بها كان في سخط اللَّه حتى ينزع، ومن (قفا) (٣) مؤمنا بما لا علم له به (وقفه) (٤) اللَّه في ردغة الخبال حتى يجيء منها بالمخرج، ومن خاصم لضعيف حتى يثبت له حقه ثبت اللَّه قدميه يوم (تزل) (٥) الأقدام، وقال: اللَّه ما ترددت في شيء أريده تردادي في قبض نفس عبدي المؤمن: يكره الموت وأكره مساءته ولا بد له منه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسان بن عطیہ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے تو اللہ اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہے اور جس شخص کی سفارش اللہ کے قانون وحدود میں آڑے بنتی ہے تو وہ شخص اللہ کے حکم میں رکاوٹ بن رہا ہے اور جو کوئی شخض کسی ایسے جھگڑے کی معاونت کرتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو وہ اس جھگڑے سے نکلنے تک اللہ کے غصہ میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی تہمت لگاتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو اللہ اس کو ہلاکت کی دلدل میں پھنسا دیتا ہے حتی کہ وہ خود اس سے راستہ نکال لے۔ اور جو کوئی شخص کسی کمزور کے حق میں جھگڑا کرتا ہے تاکہ اس کو اس کا حق دلوا دے تو اللہ ایسے دن کہ جب قدم لڑ کھڑائیں گے اس کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کوئی تردد نہیں کرتا۔ سوائے اپنے مومن بندے کی جان قبض کرنے کے وقت کیونکہ وہ موت اور اس کی تکلیف سے گھبراتا ہے جبکہ اس سے کوئی چارۂ کار نہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (مالت).
(٢) في [جـ]: (في).
(٣) أي: قذفه بما لا يعلم، وفي [أ، ط، هـ]: (فقأ).
(٤) في [أ، ب، س]: (وفقه).
(٥) في [جـ]: (تزول).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38219، ترقيم محمد عوامة 36630)