حدیث نمبر: 38218
٣٨٢١٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: بينما رجل راكبا على حمار إذ (عثر به) (١) فقال: تعست، فقال صاحب اليمين: ما هي بحسنة فأكتبها، وقال صاحب الشمال: ما هي بسيئة فأكتبها، فنودي صاحب الشمال: أن ما ترك صاحب اليمين فأكتبه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی گدھے پر سوار تھا اچانک وہ گرگیا تو اس نے کہا کہ میں گدھے سے گرگیا۔ تو دائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کوئی نیکی تو نہیں ہے کہ جس کو میں لکھوں اور بائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کون سی برائی ہے کہ جس کو میں لکھوں تو بائیں جانب کے فرشتہ کو آواز دی گئی کہ جس قول کو دایاں چھوڑ دے اس کو لکھ لو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عير به)، وفي [جـ]: (عثرت به).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38218، ترقيم محمد عوامة 36629)