حدیث نمبر: 38212
٣٨٢١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون وهشام جميعا عن محمد ابن سيرين قال: كنا عند أبي عبيدة بن (حذيفة) (١) في قبة له، فأتاه رجل فجلس معه على فراشه، فسارّه بشيء لم أفهمه، فقال له أبو عبيدة: [فإني أسألك أن تضع إصبعك في هذه النار، وكانونٌ بين أيديهم فيه نار، فقال الرجل: سبحان اللَّه! فقال (له) (٢) أبو عبيدة: تبخل] (٣) عليّ بأصبع من أصابعك في نار الدنيا، وتسألني أن أجعل جسدي كله في نار جهنم، قال: (فظننا) (٤) أنه دعاه إلى القضاء.
مولانا محمد اویس سرور

محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ کے پاس ان کے گنبد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ ان کے بستر پر بیٹھ گیا۔ اس نے ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کی جو ہم نہ سمجھ سکے۔ ابوعبیدہ نے اس سے کہا کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ ہمارے درمیان ایک انگیٹھی میں آگ جل رہی تھی۔ اس آدمی نے کہا ” سبحان اللہ “ تو ابوعبیدہ نے فرمایا کہ تو میرے لیے اس دنیا کی آگ میں ایک انگلی کے بارے میں بھی بخل کرتا ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے کہ میں اپنے تمام جسم کو جہنم کی آگ میں ڈال دوں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں اس آدمی نے ابوعبیدہ کو قاضی بننے کی دعوت دی تھی۔

حواشی
(١) في [أ]: (حنيفة).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٤) في [س]: (فظتنا)، وفي [ط]: (فظننت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38212
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38212، ترقيم محمد عوامة 36623)