٣٨٢٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: دخلنا على محمد بن سوقة فقال: أحدثكم بحديث لعله ينفعكم فإنه قد نفعني، قال: قال (لنا) (١) عطاء بن أبي رباح: يا ابن أخي، إن من (٢) قبلكم كان يكره فضول الكلام، ما عدا كتاب اللَّه تعالى: أن تقرأه، أو أمرا بمعروف أو نهيا عن منكر، وأن تنطق بحاجتك في معيشتك التي لا بد لك منها، أتنكرون أن ﴿عَلَيْكُمْ (لَحَافِظِينَ) (٣) (١٠) كِرَامًا كَاتِبِينَ﴾ [الانفطار: ١٠]، وأن ﴿عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (١٧) مَا (يَلْفِظُ) (٤) مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ [ق: ١٧ - ١٨]، أما يستحي أحدكم لو نشر صحيفته التي (أملى) (٥) صدر نهاره، وأكثر ما فيها ليس من أمر دينه ولا دنياه.حصرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عبید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد بن سوقہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں امید ہے کہ وہ تم کو نفع دے گی۔ اس لیے کہ اس بات سے مجھ کو نفع ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عطا بن رباح نے ہمیں فرمایا کہ ” اے میرے بھتیجے تم سے پہلے لوگ فضول باتوں سے بچتے تھے۔ سوائے اس کے کہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کرے یا کسی نیک کام کا حکم کرے یا برائی سے روکے اور یہ کہ تو اپنی ضروری معیشت کو خاطر بقدر ضرورت بات کرے۔ کیا تم لوگ قرآن پاک کی آیت { عَلَیْکُمْ حَافِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِینَ } اور { عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ} کا انکار کرسکتے ہو۔ کیا تم کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ اگر تمہارے سارے دن کے اعمال ناموں کا صحیفہ کھولا جائے تو اس میں اکثر باتیں ایسی ہوں کہ جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دنیا سے۔