حدیث نمبر: 38187
٣٨١٨٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا مالك بن مِغْوَل عن طلحة عن مجاهد قال: إذا التقى الرجلُ كل الرجلَ فضحك في وجهه، (تحاتت) (١) عنهما الذنوب كما (ينثر) (٢) الريح الورق اليابس من الشجر، قال: فقال رجل: (٣) إن هذا من العمل يسير، قال: فقال: ما سمعت قوله تعالى: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ [التوبة: ٦٣].مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب کوئی آدمی دوسرے کو مل کر مسکراتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں کہ جیسے ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ تو بہت چھوٹا سا عمل ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا : { لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ } کہ اگر آپ روئے زمین کی تمام اشیاء بھی صرف کردیتے تو ان میں آپس میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔
حواشی
(١) في [ب]: (تحافت).
(٢) في [أ، ب]: (تنثر)، وفي [ع]: (ينتر).
(٣) في [هـ]: زيادة (ويحك) من الحلية ٣/ ٢٩٧.