٣٨١٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة عن حصيد بن هلال قال: كان هرم بن حيان عاملا على بعض رساتيق الأهواز، فاستأذنه رجل من أصحابه إلى أهله، فأبى أن يأذن له، قال: فقام هرم بن حيان يخطب يوم (جمعة) (١) إذ قال الرجل هكذا على أنفه -أمسك على أنفه- (فأشار) (٢) إليه هرم بيده: اذهب، فانطلق الرجل حتى أتى أهله فقضى حاجته ثم رجع فقال له هرم: أين كنت؟ فقال: ألم تر حين قمت فأمسكت على أنفي (فأشرت) (٣) إلي بيدك: اذهب، فقال هرم: أخر رجال السوء لزمان السوء.حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرم بن حیان ” اہواز “ علاقے کے بعض دیہاتوں کے گورنر تھے۔ ان سے ان کے کسی ساتھی نے اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ” حمید بن ہلال “ کہتے ہیں کہ ہرم بن حیان جمعہ کے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی نے ناک پر ہاتھ رکھ کر اجازت طلب کی تو ” ہرم “ نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ چلا جا۔ وہ نکلا یہاں تک کہ اپنے گھر آیا اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد لوٹا۔ ” ہرم “ نے اس سے پوچھا کہ ” آپ کہاں تھے “ تو اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا نہیں تھا کہ جب میں نے کھڑا ہو کر ناک کو روک رکھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ چلا جا تو ہرم نے فرمایا کہ ” برے لوگوں کو برے زمانہ کے لیے چھوڑ دو ۔