٣٨١٧٤ - حدثنا خلف بن خليفة عن أصبغ الوراق عن أبي نضرة أن عمر بعث هرم بن حيان على الخيل، فغضب على رجل فأمر به (فوجئت) (١) عنقه، ثم أقبل ⦗٣٠⦘ على أصحابه فقال: لا جزاكم اللَّه خيرا ما نصحتموني حين قلت، ولا كففتموني (عن) (٢) غضبي، واللَّه لا (أَلِي) (٣) لكم عملا، ثم كتب إلى عمر: يا أمير المؤمنين لا طاقة لي بالرعية فابعث إلى عملك (٤).حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ہرم بن حیان کو ایک لشکر کی قیادت دے کر روانہ فرمایا۔ پھر ہرم دشمنوں کے ایک آدمی پر غضب ناک ہوئے اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ اللہ تمہیں خیر سے محروم رکھے، جب میں نے یہ بات کی تو تم نے مجھے نصیحت کیوں نہ کی، اور تم نے مجھے میرے غصے سے کیوں نہ روکا، خدا کی قسم میں تمہارے کسی معاملے کا قائد نہیں بنوں گا۔ پھر انہوں نے حضرت عمرکو خط لکھا کہ اے امیر المومنین ! میں رعیت کے کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ اس کام کے لئے کسی اور کو بھیج دیجئے۔