حدیث نمبر: 38172
٣٨١٧٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن عون بن شداد أن هرم بن (حيان) (١) العبدي لما نزل به الموت (قالوا) (٢) له: يا هرم (أوص) (٣)، قال: أوصيكم أن تقضوا عني ديني، قالوا: بم توصي؟ قال: فتلا آخر سورة النحل: ﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ حتى بلغ: ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ﴾ [النحل: ١٢٥، ١٢٨].مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن شداد کہتے ہیں کہ جب ہرم بن حیان عبدی کے وصال کا وقت آیا تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اے ہرم ! وصیت فرمادیجئے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم میرا قرض ادا کردینا۔ پھر لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کیسے زندگی گزارنے کی وصیت کرتے ہیں ؟ انہوں نے سورة النحل کی { ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ } سے لے کر {إنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَالَّذِینَ ہُمْ مُحْسِنُونَ } تک تلاوت فرمائی۔
حواشی
(١) في [ب]: (حبان).
(٢) في [أ، ب، س]: (قال).
(٣) في [أ، هـ]: (أوصني)، وانظر: تفسير ابن جرير ١٤/ ١٩٩، والحلية ٢/ ١٢١، وطبقات ابن سعد ٧/ ١٣١، وزهد هناد (٥١٢)، وزهد أحمد (٢٣٣).