حدیث نمبر: 38168
٣٨١٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: كان (سعيد بن عمرو) (١) بن حذيم أميرا على (مصر) (٢) فبلغ عمر بن الخطاب أنه يأتي عليه حين لا يدخن في تنوره، فبعث إليه بمال، فاشترى ما يصلحه وأهله، ثم قال لامرأته: لو أنا أعطيناها تاجرا لعله أن يصيب لنا فيها، قالت: فافعل، (قال) (٣): فتصدق بها الرجل، وأعطاها حتى لم يبق منها شيء، ثم ⦗٢٨⦘ احتاجوا فقالت له امرأته: لو أنك نظرت إلى تلك الدراهم فأخذتها، فإنا قد احتجنا إليها، فأعرض عنها، ثم عادت فقالت أيضًا، فأعرض عنها، حتى استبان لها أنه قد أمضاها (قال) (٤): فجعلت تلومه، قال: فاستعان عليها بخالد بن الوليد فكلمها، فقال: إنكِ قد آذيته فكأنما (أغراها) (٥) به، فقالت له أيضًا، فلما رأى ذلك الرجل برك على ركبتيه فقال: ما يسرني أن (أحبس) (٦) عن (العنق) (٧) الأول يوم القيامة (ولا) (٨) أن لي ما ظهر على الأرض، و (لو) (٩) أن خيرة من الخيرات أبرزت أصابعها لأهل الأرض من فوق السماوات لوجد ريحهن، فأنا أدعهن لَكُنَّ؟ لأن أدعكن لهن أحرى من أن أدعهن لكن، فلما رأت ذلك كفت عنه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عامر بن حذیم مصر کے امیر تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان پر بعض اوقات ایسے بھی آتے ہیں کہ ان کا چولہا نہیں جلتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اور ان کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کچھ مال بھیجا۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ کیوں نہ ہم یہ مال ایسے تاجر کو دے دیں جو اس میں ہمارے لئے نفع کمائے ؟ ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ آپ ایسا کرلیجئے۔ پھر آپ نے وہ مال صدقہ کردیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر کچھ عرصے بعد انہیں احتیاج ہوئی اور مال کی ضرورت پڑی تو ان کی بیوی نے کہا کہ اگر آپ ان دراہم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑتے تو اچھا ہوتا آج ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔ ان کی اہلیہ نے پھر وہی بات دہرائی ، انہوں نے پھر اعراض کیا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ توجہ نہیں کررہے توا نہیں ملامت کرنے لگیں۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور فرمایا کہ تم نے حضرت سعید کو تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت سعید کی اہلیہ نے ان سے بھی یہی بات فرمائی۔ جب اس آدمی کو یہ بات معلوم ہوئی جس کو دراہم حاصل ہوئے تھے تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ قیامت کے دن مجھے پہلی جماعت میں داخل ہونے سے روک لیا جائے جبکہ اس کے بدلے میں مجھے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ مل جائے۔ اور اگر ایک حور اپنی انگلیاں زمین والوں کے لئے ظاہر کردے تو ان کی خوشبو سب کو محسوس ہوگی۔

حواشی
(١) كذا في النسخ، وفي [ع]: (عمرو بن سعيد)، والمعروف أنه سعيد بن عامر، انظر: التاريخ الكبير ٣/ ٤٥٣، والجرح والتعديل ٤/ ٤٨.
(٢) كذا في النسخ، والمعروف أنه كان واليًا على حمص.
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (قالت).
(٥) في [ع]: (أغداها)، وفي [أ، ب، هـ]: (أعداها).
(٦) في [أ، ب]: (أجلس).
(٧) أي الجيل الأول، وفي [أ، هـ]: (العنو).
(٨) في [أ، ب]: (ولو).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) منقطع؛ ابن سابط لم يدرك عمر ولا ابن حذيم، وأخرجه ابن إسحاق كما في المطالب (٣١٧٢)، وابن عساكر ٢١/ ١٤٦، والطبراني (٥٥١١)، والفاكهي (٢١٦٥)، وأبو نعيم ١٠/ ٢٤٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38168
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38168، ترقيم محمد عوامة 36579)