حدیث نمبر: 38166
٣٨١٦٦ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: إن المَلَك يجيء إلى أحدكم كل (غداة) (١) بصحيفة بيضاء (فليمل) (٢) فيها خيرا، [فإذا طلعت الشمس فليقم (لحاجته) (٣)، ثم إذا صلى العصر فليمل (فيها خيرا) (٤)] (٥)، فإنه إذا أملي في أول صحيفته وآخرها خيرًا، كان عسى أن (يكفى) (٦) ما بينهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہر صبح فرشتہ تمہارے پاس سفید نامہ اعمال لے کر آتا ہے اور اس میں خیر لکھواتا ہے، جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی حاجت کے لئے اٹھ جاتا ہے اور جب وہ عصر کی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس میں خیر لکھواتا ہے، پس جب اعمال نامے کے شروع اور آخر میں خیر ہو تو امید ہے کہ ان دونوں حصوں کی خیر درمیانی حصے کو بھی کفایت کرجائے گی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ع]: (غدوة).
(٢) في [أ، ب، ع]: (فيملي)، وفي [س]: (فيحلي)، وفي [جـ]: (فليملي).
(٣) في [س]: (لحاجة).
(٤) في [ع]: (فيها خير).
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٦) في [هـ]: (يكفر).