مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كره القراءة خلف الإمام باب: جو حضرات امام کے پیچھے قراءت کو مکروہ خیال فرماتے ہیں
حدیث نمبر: 3815
٣٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن [عيينة] (١) عن الزهري عن (ابن) (٢) أكيمة قال: سمعت أبا هريرة يقول: صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة (نظن) (٣) أنها الصبح فلما قضاها قال: " (هَلْ) (٤) قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ " قال رجل: أنا. قال: "إِنّي أَقُولُ مَالِي أُنَازِعُ (٥) الْقُرْآنَ" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔ غالباً وہ فجر کی نماز تھی۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قراءت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں بھی سوچ رہا تھا کہ قرآن میں مجھ سے کون جھگڑ رہا ہے ؟ !
حواشی
(١) في [جـ]: [علية].
(٢) في [هـ]: (أبي).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (يظن).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: زيادة (في).