حدیث نمبر: 38110
٣٨١١٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا محمد بن عمرو عن صفوان بن سليم (قال: قال أبو مسلم) (١) الخولاني: كان الناس ورقا لا شوك فيه، وإنهم اليوم شوك لا ورق فيه، إن ساببتهم (سبوك) (٢)، وإن ناقدتهم ناقدوك، وإن (تركتهم) (٣) لم يتركوك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مسلم خولانی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک ایسے پتے کی طرح تھے جس میں کوئی کانٹا نہ ہو۔ آج وہ ایک ایسے کانٹے کی طرح ہیں جس میں کوئی پتہ نہیں ہے۔ اگر تم انہیں گالی دو گے تو وہ تمہیں خوب گالیاں دیں گے اور اگر تم ان کے عیب بیان کرو گے تو وہ تمہاری خوب برائی بیان کریں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (سابوك).
(٣) في [س]: (تركتم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38110، ترقيم محمد عوامة 36522)