حدیث نمبر: 38096
٣٨٠٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: سمعت عبد الأعلى التيمي يقول: من أوتي من العلم ما لا يبكيه (خليق) (١) أن لا يكون أوتي علما ينفعه؛ لأن اللَّه (نعت) (٢) العلماء ثم قرأ إلى قوله: ﴿يَبْكُونَ﴾.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ تیمی فرماتے ہیں کہ جسے وہ علم دے گیا جو اسے رونے پر نہ ابھارے وہ اس لائق ہے کہ اس کے بارے میں کہا جائے کہ اسے علم نافع عطا نہیں ہوا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی { اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰے عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا٭ وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا٭ وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ }
حواشی
(١) في [جـ]: (لخيق).
(٢) في [س]: (بعث)، وفي [ب]: (نعمت).