حدیث نمبر: 38071
٣٨٠٧١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: قال لنا أبي: إذا رأى أحدكم شيئا من زينة الدنيا وزهرتها، فليأت أهله (فيأمرهم) (١) بالصلاة وليصطبر عليها، فإن اللَّه قال لنبيه: (و) (٢) ﴿(لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ) (٣) إِلَى (مَا) (٤) مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ﴾ [الحجر: ٨٨] ثم قرأ إلى آخر الآية.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں، میرے والد صاحب نے کہا تھا : جب تم میں سے کوئی دنیا کی زینت اور خوب صورتی کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے اور ان کو نماز پڑھنے اور اس پر ٹھہرنے کا حکم دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : { وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْک إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجًا مِنْہُمْ } پھر آپ رحمہ اللہ نے آخر تک یہ آیت تلاوت فرمائی۔
حواشی
(١) في [جـ]: (فيأمر أهله).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [هـ].