٣٨٠٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: حدثنا زيد بن أسلم عن عطاء ابن يسار عن كعب قال: (يؤتى) (١) بالرئيس في الخير يوم القيامة، فيقال (له) (٢): أجب ربك، فينطلق به إلى ربه فلا يحجب عنه، (٣) فيؤمر به إلى الجنة فيرى منزله ومنازل أصحابه الذين كانوا يجامعونه على الخير ويعينونه عليه، فيقال (له) (٤): هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان، (فيرى) (٥) (ما أعد اللَّه) (٦) (٧) في الجنة من الكرامة، ويرى منزلته (أفضل) (٨) من منازلهم، ويكسى من ثياب الجنة ويوضع على رأسه تاج، و (يعلقه) (٩) من ريح الجنة، ويشرق وجهه حتى يكون مثل القمر، قال همام: أحسبه قال: ليلة البدر. ⦗٥٦٩⦘ قال: فيخرج فلا يراه أهل ملأ إلا قالوا: اللهم اجعله منهم، حتى يأتي أصحابه الذين كانوا يجامعونه (على الخير) (١٠) ويعينونه عليه فيقول: أبشر يا فلان فإن اللَّه (١١) أعد لك في الجنة كذا، وأعد لك في الجنة كذا وكذا، فما (زال) (١٢) يخبرهم بما أعد اللَّه لهم في الجنة من الكرامة حتى يعلو وجوههم من البياض مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس ببياض وجوههم (فيقولون) (١٣): هؤلاء أهل الجنة. ويؤتى بالرئيس في الشر فيقال له: أجب ربك، فينطلق به إلى ربه، فيحجب عنه، ويؤمر به إلى النار، فيرى (منزله) (١٤) ومنازل أصحابه، فيقال: هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان فيرى ما أعد اللَّه له فيها من الهوان، ويرى منزلته شرا من منازلهم، (قال) (١٥): فيسود وجهه وتزرق عيناه، ويوضع على رأسه قلنسوة من نار، فيخرج فلا يراه أهل ملأ إلا تعوذوا باللَّه منه، فيأتي أصحابه الذين كانوا يجامعونه على الشر ويعينونه عليه، قال: فيقولون: نعوذ باللَّه منك، قال: فيقول: ما أعاذكم اللَّه مني؟ فيقول لهم: أما تذكر يا فلان كذا وكذا؟ فيذكرهم الشر الذي وكانوا يجامعونه ويعينونه عليه، فما زال يخبرهم بما أعد اللَّه لهم في النار حتى يعلو وجوههم من السواد مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس بسواد وجوههم (فيقولون) (١٦): (هؤلاء) (١٧) أهل النار.حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن خیر میں سرداری کرنے والے ایک سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ اپنے رب کو جواب دو ۔ پھر اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا اور اس سے حجاب نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ وہ اپنی اور اپنے ساتھ خیر کے کاموں میں معاونت اور ہاتھ بٹانے والوں کی منزلیں دیکھے گا۔ اور اس کو کہا جائے گا یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے۔ چناچہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں عزت ومقام تیار کیا ہوگا یہ اس کو دیکھے گا۔ اور یہ اپنی منزل کو دیگر لوگوں کی منزلوں سے افضل دیکھے گا۔ اور اس کو جنت کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور اس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اس پر جنت کی ہوا چڑھائی جائے گی۔ اور اس کے چہرے کو اتنا چمکایا جائے گا کہ وہ چاند کی طرح ہوجائے گا ہمام راوی کا کہنا ہے ۔ میرے خیال میں استاد نے کہا تھا۔ ماہِ تمام کی طرح … ہوجائے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ باہر آئے گا۔ اس کو جو لوگ بھی دیکھیں گے وہ یہی کہیں گے۔ اے اللہ اس کو ان میں سے کردے یہاں تک کہ یہ ان لوگوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ کارخیر میں معاونت اور شرکت کرتے تھے۔ اور کہے گا۔ اے فلاں ! تجھے خوشخبری ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جنت میں ایسی ایسی تیاری کر رکھی ہے۔ اور تیرے لیے جنت میں یہ، یہ تیار کیا ہے۔ پس وہ ان لوگوں کو ان نعمتوں کے بارے میں بتاتا رہے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں بنا رکھی ہیں یہاں تک کہ ان کے چہروں پر بھی ایسی ہی سفیدی چڑھ جائے گی جیسی اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی ہوگی۔ چناچہ لوگ انہیں ان کے چہروں کی سفیدی سے پہچانیں گے اور کہیں گے۔ یہ لوگ اہل جنت ہیں۔ (اور شریروں کے سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ تو اپنے رب کو جواب دے۔ پس اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا۔ پھر اس سے پردہ کردیا جائے گا اور اس کو جہنم کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ (وہاں) اپنی اور اپنے ساتھیوں کی منزل دیکھے گا۔ اس کو کہا جائے گا۔ یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے پس وہ وہاں خدا کی طرف سے تیار کردہ ذلت کو دیکھے گا اور وہ اپنی منزل دیگر تمام لوگوں سے بدتر دیکھے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور اس کے سر پر آگ کی ٹوپی رکھی جائے گی۔ پھر یہ باہر آئے گا تو اس کو جو جماعت بھی دیکھے گی وہ اس سے خدا کی پناہ مانگے گی۔ پھر وہ اپنے ان ساتھیوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ شر میں معاونت وشرکت کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ لوگ کہیں گے۔ ہم تجھ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ سے پناہ نہ دے پھر یہ ان سے کہے گا۔ اے فلاں ! یہ یہ بات یاد کر۔ چناچہ یہ ان کو وہ تمام شرارتیں یاد دلائے گا جس کو یہ سب اکٹھے اور باہم معاونت سے کرتے تھے۔ یہ انہیں جہنم میں ان کے لیے تیار شدہ عذاب کی بات کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی سیاہی کی طرح ان کے چہرے پر بھی سیاہی چڑھ جائے گی اور لوگ ان کو ان کے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے پہچان لیں گے اور لوگ کہیں گے۔ یہ جہنم والے ہیں۔