٣٨٠٥٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن (الحسن) (١) أنه تلا: ﴿(وَاسْأَلْهُمْ) (٢) عَنِ ⦗٥٦٦⦘ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا﴾ [الأعراف: ١٦٣] الآية، قال: كان حوت حرمه اللَّه (عليهم) (٣) في يوم، (وأحله) (٤) لهم في سوى ذلك، (فكان) (٥) يأتيهم في اليوم الذي حرم عليهم كأنه المخاض، ما يمتنع من أحد، فجعلوا يهمون ويمسكون حتى أخذوه، فأكلوا -واللَّه- بها أوخم أكلة أكلها قوم (قط) (٦) أبقى خزيا في الدنيا وأشد عقوبة في الآخرة، وأيم اللَّه للمؤمن أعظم حرمة عند اللَّه من حوت ولكن اللَّه جعل موعد قوم الساعة والساعة أدهى وأمر.حسن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے { وَاسْأَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِی کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ إذْ یَعْدُونَ فِی السَّبْتِ إذْ تَأْتِیہِمْ حِیتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا } پوری آیت تلاوت کی۔ تو فرمایا : یہ ایک مچھلی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک دن ان پر حرام کیا تھا اور اس کے علاوہ بقیہ دنوں میں اس کو لوگوں کے لیے حلال کیا تھا۔ پس یہ مچھلی ان کے پاس اس دن حاملہ اونٹنی کی طرح کی آجاتی تھیں۔ جو کسی کو نہیں روکتی تھی۔ چناچہ ان لوگوں نے ارادہ کیا اور (اس کو) روکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو پکڑ لیتے اور پھر کھالیتے۔ خدا کی قسم ! اس کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں ہے جو لوگوں نے کبھی کھایا ہو۔ اس نے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب کو چھوڑ دیا۔ اور خدا کی قسم ! مومن تو خدا کے ہاں مچھلی سے زیادہ حرمت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے قیامت کے دن کا وعدہ کر رکھا ہے اور قیامت زیادہ وحشت ناک اور ہو کر رہنے والی ہے۔