٣٨٠٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جويبر عن الضحاك قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى: أما بعد فإن القوة في العمل أن لا تؤخروا عملَ اليوم لغد، فإنكم إذا فعلتم ذلك تداركت عليكم الأعمال فلم (تدروا) (١) أيها تأخذون فأضعتم، فإذا خيرتم بين أمرين: أحدهما للدنيا والآخر للآخرة؛ فاختاروا ⦗٥٦٠⦘ أمر الآخرة على أمر الدنيا، فإن الدنيا تفنى و (٢) الآخرة تبقى، كونوا من اللَّه (على وجل) (٣)، وتعلموا كتاب اللَّه، فإنه ينابيع العلم وربيع القلوب (٤).حضرت ضحاک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حصرت ابوموسیٰ کو تحریر فرمایا : اما بعد ! بیشک عمل میں قوت ہے۔ تم آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا۔ کیونکہ تم جب اس طرح کرو گے تو بہت سے اعمال تمہارے اوپر جمع ہوجائیں گے۔ تمہیں پتہ نہیں چلے گا کہ تم ان میں سے کس کو لو۔ پھر تم ضیاع کرو گے۔ پس جب تمہیں دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جائے۔ ان میں سے ایک دنیا کے لیے ہو۔ اور دوسرا آخرت کے لیے ہو۔ تو تم آخرت کے کام کو دنیا کے کام پر ترجیح دو ۔ کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے اور تم اللہ کی طرف سے خوف پر رہو۔ اور تم اللہ کی کتاب سیکھو۔ کیونکہ وہ علم کے چشمے ہیں اور دلوں کی بہار ہے۔