حدیث نمبر: 37953
٣٧٩٥٣ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عاصم قال: ما سمعت الحسن يتمثل ببيت شعر إلا هذا البيت: لَيْسَ مَنْ مَاتَ فاسْتراحَ بميْتٍ … إنما الميْتُ مَيِّتُ الأَحْيَاءِ ثم قال: صدق واللَّه، إنه ليكون (حيٌ) (٢) وهو ميت القلب.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو کبھی کسی شعر کو مثال بیان کرتے نہیں سنا۔ سوائے اس شعر کے صرف وہی میت نہیں جو مرگیا اور راحت پا گیا میت تو وہ ہوتا ہے جو زندہ میں میت ہوتا ہے پھر راوی کہنے لگے : خدا کی قسم ! آپ نے سچ کہا۔ آپ زندہ تھے لیکن دل مردہ تھا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) في [هـ]: (حيًا).