٣٧٩٤٣ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن يحيى بن المختار عن الحسن ⦗٥٤٠⦘ قال: إن المؤمن قوّام على نفسه (يحاسب) (١) نفسه للَّه، وإنما خف الحساب يوم القيامة على قوم حاسبوا أنفسهم في الدنيا، وإنما شق الحساب يوم القيامة على قوم أخذوا هذا الأمر (عن) (٢) غير محاسبة، إن المؤمن (يفجؤه) (٣) الشيء فيعجبه فيقول: واللَّه إني لأشتهيك وإنك لمن حاجتي، ولكن واللَّه ما من وُصْلةٍ إليك، هيهات حيل بيني وبينك، ويفرط منه الشيء فيرجع إلى نفسه فيقول: ما أردت (إلى) (٤) هذا؟ (مالي) (٥) ولهذا، (مالي) (٦) (عذر بهذا) (٧)، واللَّه لا أعود إلى هذا أبدا إن شاء اللَّه، إن المؤمنين قوم (أوثقهم القرآن) (٨) (وحال) (٩) بينهم وبين هلكتهم، إن المؤمن أسير في الدنيا، يسعى في فكاك رقبته، لا يأمن شيئا حتى يلقى اللَّه، يعلم أنه مأخوذ عليه في ذلك كله.حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک مومن اپنے نفس پر نگران ہوتا ہے اور وہ خدا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنے نفسوں کا محاسبہ کریں گے اور قیامت کے دن حساب انہی لوگون پر مشکل ہوگا جو اس بات کا محاسبہ نہیں کرتے۔ بیشک مومن کے پاس کوئی چیز اچانک آتی ہے تو وہ اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کہتا ہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تمہاری چاہت تھی۔ اور بیشک تم میری ضرورت کی چیز ہو۔ لیکن خدا کی قسم ! تیری طرف کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اور ایمان والے سے کوئی چیز ضائع ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں نے تو اس کا ارادہ نہیں کیا تھا ؟ مجھے اس سے کیا غرض ہے ؟ میرے پاس اس کے علاوہ بھی ایک تعداد ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ یقینا اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کو قرآن نے پختہ کیا ہے اور ان کے اور ان کے ہلاک شدہ سامان کے درمیان حائل ہے۔ مومن دنیا میں قیدی ہوتا ہے جو اپنی گردن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے تک کسی شے سے مامون نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس سب میں قابل مواخذہ ہے۔