حدیث نمبر: 37940
٣٧٩٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسماعيل عن الحسن قال: بلغني أن في كتاب اللَّه: (١) (ابن آدم) (٢) (اثنتان) (٣) جعلتهما لك ولم يكونا لك: وصيةٌ في مالِك بالمعروف وقد صار الملك لغيرك، ودعوة المسلمين لك وأنت في منزل لا (تستعتب) (٤) فيه (من) (٥) سيئ ولا تزيد في حسن.مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کی (کسی) کتاب میں ہے آدم کے بیٹے ! میں نے دو چیزیں تیرے لیے کردی ہیں لیکن وہ تیرے لیے نہیں ہیں۔ تیرے مال میں معروف طریقہ سے وصیت۔ جبکہ ملکیت غیر کو حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کا تیرے لیے دعا کرنا۔ جبکہ تو ایسی جگہ ہوتا ہے نہ تو تو کسی برائی کی وجہ سے تھکتا ہے اور نہ کسی اچھائی میں بڑھتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (أن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س]: بياض.
(٤) في [ع]: (يستعب).
(٥) سقط من: [أ، هـ]، وفي [س]: (في).