٣٧٩٠٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر قال: حدثني من لا أتهم عن ابن منبه أنه جلس هو وطاوس و (نحوهما) (١) من أهل (ذلك) (٢) الزمان فذكروا (أي) (٣) أمر اللَّه أسرع؟ (فقال بعضهم) (٤): قول اللَّه: ﴿كَلَمْحِ (الْبَصَرِ) (٥)﴾ [النحل: ٧٧]، وقال بعضهم: السرير حين أتي به سليمان، فقال ابن منبه: أسرع أمر اللَّه أن يونس على حافة السفينة إذ أوحى اللَّه إلى نون في نيل مصر، قال: فما خر من حافتها إلا في جوفه.حضرت ابن منبہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ، طاؤس اور ان جیسے اور اس زمانہ کے لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپس میں اس بات کا ذکر چھیڑا کہ کون سا امر خداوندی سب سے تیز تھا ؟ تو ان میں سے بعض نے کہا : ارشاد خداوندی کَلَمْحِ الْبَصَرِ اور بعض نے کہا۔ تخت جب حضرت سلیمان کے پاس لایا گیا اس پر حضرت ابن منبہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے تیز ترین یہ تھا کہ حصرت یونس، کشتی کے کنارے پہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے مصر کے نیل کی مچھلی کو حکم دیا۔ ابن منبہ کہتے ہیں۔ پس وہ کشتی کے کنارے سے مچھلی کے پیٹ میں جا کر گرے۔