٣٧٩٠٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا مهدي قال: (حدثنا) (١) عبد الحميد صاحب الزيادي عن ابن منبه قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عَبدَ اللَّه زمانا، ثم طلب إلى اللَّه حاجة، وصام للَّه سبعين (سبتًا) (٢) (يأكل كل سبت) (٣) إحدى عشر مرة، قال: وطلب إلى اللَّه حاجته فلم يعطها فأقبل على نفسه فقال: أيتها النفس! من قبلك أتيت، لو كان عندك خير لأُعطيتِ حاجتَك، ولكن ليس عندك خير، قال: فنزل إليه (ساعتئذ) (٤) ملك، فقال له: يا ابن آدم إن ساعتك هذه التي رزئت (٥) على نفسك فيها خير من عبادتك كلها التي (٦) مضت وقد أعطاك اللَّه حاجتك التي سألت.حضرت ابن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اس نے ایک زمانہ اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت مانگی اور اس نے اللہ کے لیے ساٹھ ہفتے روزے رکھے۔ ہر ہفتہ گیارہ مرتبہ کھاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے اللہ سے کوئی حاجت مانگی اور اللہ تعالیٰ نے وہ حاجت اس کو نہ دی۔ چناچہ وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا۔ اے نفس ! تیری وجہ سے مجھے دیا جاتا ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی خیر ہوتی تو تجھے تیری حاجت دے دی جاتی۔ لیکن تیرے پاس کوئی خیر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس اسی وقت ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے اس آدمی کو کہا۔ اے آدم کے بیٹے ! تیری یہ گھڑی جس میں تو نے اپنے نفس پر عتاب کیا وہ تیری سابقہ ساری عبادت سے بہتر ہے۔ تحقیق تجھے اللہ تعالیٰ نے تیری حاجت دے دی ہے۔