٣٧٩٠٦ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا عطاء بن السائب عن وهب بن منبه قال: أعطى اللَّه موسى نورا يكون لغيره نارا، قال: فدعا موسى هارون فقال: إن اللَّه وهب لي نورا يكون لغيري ⦗٥٣١⦘ نارا (١)، كان موسى (وهبه) (٢) لي كأني أهبه لكما، قال: فكان ابنا هارون يقربان القربان لبني إسرائيل، قال: (فاحدثا) (٣) شيئا فنزلت النار فاحترقا، قال: فقيل لهما: يا موسى وهارون (كذا) (٤) أصنع بمن عصاني من أهل طاعتي، فكيف أصنع بمن عصاني من أهل معصيتي.حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ایسا نور دیا تھا جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر موسیٰ نے حضرت ہارون کو بلایا اور کہا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا نور عطا کیا ہے جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ مجھے ہدیہ کیا تھا اور میں یہ تم دونوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ حضرت ہارون کے دونوں بیٹے بنی اسرائیل کے لیے قربانی کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کوئی بات نئی نکال دی تو آگ اتری اور ان کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان سے کہا گیا۔ اے موسیٰ و ہارون ! میرے اہل طاعت میں سے جو میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کرتا ہوں۔ تو پھر میں اپنے نافرمانوں میں سے نافرمانی کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کروں گا ؟ “