حدیث نمبر: 37905
٣٧٩٠٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا صالح الفزاري عن إبراهيم بن ميمون عن وهب بن منبه قال: قال داود: يا رب ابن آدم ليس منه شعرة إلا تحتها منك نعمة، و (فوقها) (١) منك نعمة، فمن أين يكافؤك بما أعطيته؟ قال: فأوحى اللَّه إليه: يا داود إني أعطي الكثير وأرضى باليسير، و (أداء) (٢) شكر ذلك لي أن يعلم أن مابه (من) (٣) نعمة مني.مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ داؤد نے عرض کیا۔ اے پروردگار ! آدم کے بیٹے کے ہر بال کے نیچے بھی آپ کی نعمت ہے اور اس کے اوپر بھی ایک نعمت ہے۔ پس وہ آپ کو، آپ کی عطاؤں کا بدلہ کہاں سے دیں گے ؟ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے داؤد کو وحی کی۔ بیشک میں کثیر عطا کرتا ہوں اور تھوڑے پر راضی ہوجاتا ہوں۔ میری ان نعمتوں کا ادائے شکر یہ ہے کہ یہ بات معلوم کی جائے کہ جو کوئی بھی نعمت ہے وہ میری طرف سے ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (فوق).
(٢) في [أ، هـ]: (إذا)، وانظر: طبقات المحدثين بأصبهان (٣٠٢)، وتاريخ أصبهان ١/ ٣٠٩.
(٣) سقط من: [س].