٣٧٩٠١ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن بُرقان قال: بلغني أن ابن منبه كان يقول: أعون الأخلاق على الدين: الزهادة في الدنيا، وأوشكها ردى: اتباع الهوى، ومن اتباع الهوى: الرغبة في الدنيا، ومن الرغبة في الدنيا: حب المال والشرف، ومن حب المال والشرف: استحلال المحارم، ومن استحلال المحارم يغضب اللَّه، وغضب اللَّه الداء الذي لا دواء له إلا رضوان اللَّه، (ورضوان اللَّه) (١) دواء لا يضرُّ معه داء، ومن يريد أن يرضي ربه يسخط نفسه، ومن لا يسخط نفسه لا يرضي ربه، إن كان كلما ثقل على الإنسان شيء من دينه تركه أوشك أن لا يبقى معه شيء.حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت ابن منبہ کہا کرتے تھے۔ اخلاق میں سے سب سے بڑا معاون دین کے لیے دنیا میں بےرغبتی ہے۔ اور دین کے لیے سب سے زیادہ ردی بات، خواہشات کی پیروی ہے۔ اور خواہشات کی پیروی سے دنیا میں رغبت ہے اور دنیا میں رغبت سے مال وجاہ کی محبت ہے اور مال وجاہ کی محبت سے حرام کا حلال سمجھنا ہے اور حرام کو حلال سمجھنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور غضب خداوندی ایسی بیماری ہے جس کی رضا خداوندی کے علاوہ کوئی دوائی نہیں ہے۔ یہ ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی جو آدمی اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کو ناراض کرے اور جو اپنے نفس کو ناراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے رب کو راضی نہیں کرپاتا۔ اگر انسان دین کی بوجھ محسوس ہونے والی چیز چھوڑ دے گا تو قریب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔