حدیث نمبر: 37898
٣٧٨٩٨ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن خالد الربعي قال: كان في بني إسرائيل رجل، وكان (مغمورا) (١) في العلم، وإنه ابتدع بدعة، فدعا الناس (فاتبع) (٢)، وأنه تذكر ذات ليلة فقال: هب هؤلاء الناس لا يعلمون ما ابتدعت، أليس (اللَّه قد علم) (٣) ما ابتدعت؟ قال: فبلغ من توبته (أن) (٤) (خرق) (٥) ترقوته، وجعل فيها سلسلة، وربطها بسارية من سواري المسجد، قال: لا أنزعها حتى (يتاب) (٦) عليّ، قال: فاوحى اللَّه إلى نبي من أنبياء بني إسرائيل، وكان لا يستنكر بالوحي: أن قل لفلان: لو أن ذنبك كان (فيما) (٧) بيني وبينك لغفرت لك، ولكن كيف بمن أضللت من عبادي فدخلوا النار.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خالد ربعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی۔ ایک رات اس کو یہ خیال آیا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو۔ انہیں تو میری ایجاد کا علم نہیں ہے۔ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو میری اس پیدا کردہ بدعت کا علم نہیں ہے ؟ کہتے ہیں وہ اپنی توبہ میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی کو جلا لیا اور اس میں ایک رسی ڈال کر مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا۔ میں اس کو تب تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ میری توبہ قبول نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ آپ فلاں سے کہہ دو ۔ اگر تیرا گناہ میرے، تیرے درمیان ہوتا تو میں تجھے معاف کردیتا لیکن میرے جن بندوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیا ہوگا ؟ چناچہ وہ جہنم میں داخل ہوا۔

حواشی
(١) في [ش]: (مغموزًا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ، س، ع]: (قد علم اللَّه).
(٤) في [ع]: (أنه).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (حرق)، وانظر: الزهد لأحمد (ص ٩٨)، والفقيه والمتفقه للخطيب ٢/ ٣٢٩.
(٦) في [س]: (ثياب).
(٧) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37898
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37898، ترقيم محمد عوامة 36313)