حدیث نمبر: 37896
٣٧٨٩٦ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن عوف عن غالب بن عجرد قال: حدثني رجل من فقهاء أهل الشام في مسجد منى قال: إن اللَّه خلق الأرض وخلق ما فيها من الشجر، ولم يكن أحد من (بني) (٢) آدم يأتي شجرة من تلك الشجر إلا أصاب منها خيرا أو كان له خير، فلم (يزل الشجرة) (٣) كذلك حتى تكلمت (فجرة) (٤) بني ⦗٥٢٧⦘ آدم بالكلمة العظيمة قولهم: ﴿اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا﴾ [البقرة: ١١٦]، فاقشعرت الأرض فشاك الشجر.
مولانا محمد اویس سرور

مسجد منی میں اہل شام کے فقہاء میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اور زمین میں موجود درختوں کو پیدا فرمایا۔ اور اولادِ آدم میں سے جو کوئی بھی ان درختوں میں سے کسی درخت کے پاس آتا تھا تو وہ اس درخت سے خیر ہی پاتا تھا۔ یا اس کے لیے یہ بہتر ہی ہوتا تھا چناچہ درختوں کی مسلسل یہی حالت رہی یہاں تک کہ اولادِ آدم میں سے فجار نے یہ بڑی بات بولی کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔ اس پر زمین کانپ اٹھی اور درختوں میں کانٹے پیدا ہوگئے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (سلمة).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ط، هـ]: (تزل الشجرة).
(٤) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37896
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37896، ترقيم محمد عوامة 36311)