٣٧٨٩٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا أبان بن إسحاق قال: حدثني رجل من عرينة قال: خرج جندب البجلي في سفر له، فخرج معه ناس من قومه حتى إذا كانوا في المكان الذي يودع بعضهم بعضا قال: ألا ترى (المحروب) (١) من حرب دينه، وإن المسلوب من سُلب دينهُ، ألا إنه لا فقر بعد الجنة، ولا غنى بعد النار، ألا إن النار لا يفك أسيرها، ولا يستغني فقيرها، ثم ركب الجادة وانطلق (٢).قبیلہ عرینہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بجلی، اپنے ایک سفر میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ بھی نکلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان میں سے بعض نے بعض کو الوداع کہا۔ تو جندب نے کہا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے۔ محروب وہ ہوتا ہے جس کے دین پر حملہ ہوا ہو اور مسلوب وہ ہے جس کا دین سلب ہوا ہو۔ خبردار ! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ہے اور جہنم کے بعد کوئی غناء نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ جہنم کا قیدی رہائی نہیں پاتا اور اس کا فقیر، غنی نہیں ہوپاتا۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔