حدیث نمبر: 37894
٣٧٨٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن أبي المنهال قال: حدثني صفوان ابن محرز قال: قال جندب: مثل الذي (يعظ) (١) وينسى نفسه مثل المصباح يضيء لغيره ويحرق نفسه، ليبصر أحدكم ما يجعل في بطنه، فإن الدابة إذا ماتت كان أول (ما) (٢) ينفتق (منها) (٣) بطنها، وليتق أحدكم أن يحول بينه وبين الجنة (ملء) (٤) ⦗٥٢٦⦘ كف من دم مسلم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے فرمایا : اس آدمی کی مثال جو وعظ کہتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے اس چراغ کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے اور اپنا آپ کو جلاتا ہے۔ چاہیے کہ تم میں سے (ہر) ایک اپنے پیٹ میں جانے والی چیز کو دیکھے۔ کیونکہ جب جانور مرجاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ پھٹتا ہے۔ اور تم میں سے (ہر) ایک، اپنے اور جنت کے درمیان خون مسلم کی ایک مٹھی کے بھی حائل ہونے سے ڈرے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (يعض).
(٢) في [هـ]: (من).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (ملأ).