٣٧٨٧٩ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا بعض أصحابنا قال: كان مورق العجلي يتجر فيصيب المال، فلا تأتي عليه جمعة وعنده (منه) (١) شيء، قال: كان يلقى الأخ من إخوانه فيعطيه أربعمائة، خمسمائة، ثلاثمائة، فيقول: ضعها لنا عندك حتى (نحتاج) (٢) إليها، ثم يلقاه بعد ذلك فيقول: شأنك بها، ويقول الآخر: (لا) (٣) حاجة لي فيها، فيقول: إنا، واللَّه ما نحن بآخذيها أبدا، شأنك بها.حضرت جعفر بن سلیمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے بعض اصحاب نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ حضرت مؤرق عجلی تجارت کرتے تھے اور انہیں مال حاصل ہوتا تھا۔ لیکن پھر ان پر ایک جمعہ بھی نہیں گزرتا تھا کہ ان کے پاس اس مال میں سے کچھ موجود ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے بھائیوں میں سے کوئی بھائی ان کو ملتا تو یہ اس کو چار سو، پانچ سو یا تین سو دے دیتے اور کہتے۔ اس کو تم اپنے پاس ہمارے لیے رکھ لو۔ یہاں تک کہ ہمیں اس کی ضرورت پڑے۔ پھر اس کے بعد اس سے ملتے تو فرماتے ۔ یہ تم لے لو۔ دوسرا آدمی کہتا۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر یہ کہتے۔ خدا کی قسم ! ہم یہ پیسے کبھی بھی نہیں لیں گے۔ یہ تم لے لو۔