حدیث نمبر: 37873
٣٧٨٧٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي قال: حدثنا غيلان بن جرير عن مطرف قال: رأيت في المنام كأني خرجت أريد الجمعة، فأتيت على مقابر من الحي، فإذا أهل القبور جلوس، فجعلت أسلم وأمضي، قالوا: يا (١) عبد اللَّه أين تريد؟ قال: قلت: أريد الجمعة، قال: (ثم) (٢) قلت: تدرون ما الجمعة؟ قالوا: نعم، ⦗٥٢١⦘ ونعلم ما يقول الطير يومئذ، قال: قلت: ما يقول الطير يومئذ؟ (قالوا) (٣): يقول سلام سلام يوم صالح.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں جمعہ کے ارادے سے باہر نکلا ہوں اور میں محلہ کے قبرستان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اہل قبور بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو سلام کرکے گزرنا چاہا تو وہ کہنے لگے۔ اے عبداللہ ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا۔ میرا جمعہ کا ارادہ ہے۔ مطرف کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا : تمہیں معلوم ہے جمعہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دن پرندے کیا کہتے ہیں۔ مطرف کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پرندے اس دن کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : پرندے کہتے ہیں۔ سلام، سلام، اچھا دن ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، س]: زيادة (أبا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37873
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37873، ترقيم محمد عوامة 36288)