حدیث نمبر: 37870
٣٧٨٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف قال: عنا نتحدث أنه لم يتحاب رجلان في اللَّه إلا وكان أفضلهما (أشدهما) (١) حبا ⦗٥٢٠⦘ لصاحبه، قال: فلما (سُيّر) (٢) مذعورٌ (و) (٣) عامر بن عبد اللَّه، قال: لقي مذعور مطرفًا فجعل يذاكره، قال مطرف: فجعلت أقول: أي أخي علام! تحبسني وقد تهورت النجوم وذهب الليل؟ (فيقول) (٤): [اللهم (فيك) (٥)، ثم يذاكره الساعة فيقول: (يا) (٦) أخي علام تحبسني؟ وقد تهورت النجوم وذهب الليل فقال] (٧): اللهم (فيك) (٨)، فلما أصبحنا أخبرت أنه قد سير، فعرفت (ليلتين) (٩) فضله علي.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں یہ بات کرتے تھے کہ باہم اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو آدمیوں میں سے افضل آدمی وہ ہوتا ہے جو ان دونوں میں سے اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں : چناچہ جب حضرت مذعور اور حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت مذعور، حضرت مطرف سے ملے اور ان سے مذاکرہ شروع کردیا۔ حضرت مطرف کہتے ہیں۔ میں کہنے لگا۔ اے میرے بھائی ! تم نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے۔ جبکہ ستارے ڈوب گئے اور رات جا رہی ہے ؟ وہ فرمانے لگے۔ اے اللہ ! تیرے لیے پھر انہوں نے حضرت مطرف سے ایک گھڑی اور مذاکرہ کیا۔ مطرف نے پھر کہا۔ اے میرے بھائی ! آپ نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے جبکہ ستارے ڈوب چکے ہیں اور رات جا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ ! تیرے لیے۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو مجھے خبر ملی کہ وہ چلے گئے ہیں۔ تب میں نے ان کی خود پر رات کی فضیلت پہچانی۔

حواشی
(١) في [ع]: (أشد مما).
(٢) في [س]: (ستر).
(٣) في [هـ]: (أو).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٥) في [س]: (حبك).
(٦) سقط من: [س].
(٧) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٨) في [س]: (حبك).
(٩) كذا في النسخ، ولعلها: (ليلتئذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37870، ترقيم محمد عوامة 36285)