حدیث نمبر: 37857
٣٧٨٥٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا محمد بن واسع الأزدي قال: كنت في حلقة فيها الحسن ومطرف، وفلان (وفلان) (١) (ذكر) (٢) أناسا فتكلم سعيد بن أبي الحسن، (قال) (٣): ثم دعا فقال في دعائه: (اللهم ارض عنا) (٤) مرتين أو ثلاثًا، قال: يقول مطرف وهو في ناحية الحلقة: اللهم إن لم ترض عنا فاعف عنا، قال: (فأبكى) (٥) القوم بهذه الكلمة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن واسع ازدی بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حسن، حضرت مطرف اور فلاں، فلاں لوگ محمد بن واسع نے کئی لوگوں کا ذکر کیا… موجود تھے۔ چناچہ حضرت سعید بن ابو الحسن نے کلام کیا راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے دعا کی اور اپنی دعا میں کہا۔ اے اللہ ! تو ہم سے راضی ہوجا۔ اے اللہ ! تو ہم سے راضی ہوجا دو یا تین مرتبہ کہا راوی کہتے ہیں حضرت مطرف حلقہ کے کنارہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ کہنے لگے۔ اے اللہ ! اگر تم ہم سے راضی نہیں ہے تو تو ہمیں معاف کردے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس بات کی وجہ سے سارے لوگ روپڑے۔

حواشی
(١) في [ع]: تكرر.
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، ع]: (فبكى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37857
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37857، ترقيم محمد عوامة 36272)