حدیث نمبر: 37849
٣٧٨٤٩ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن (أبي) (٢) غيلان قال: كان مطرف بن الشخير يقول: اللهم إني أعوذ بك من شر (السلطان) (٣) ومن شر ما تجري به أقلامهم، وأعوذ بك أن أقول بحق أطلب به غير طاعتك، وأعوذ بك أن (أتزين) (٤) للناس بشيء يشينني عندك، وأعوذ بك أن أستغيث بشيء من معاصيك على ضر نزل بي، وأعوذ بك أن تجعلني عبرة لأحد من خلقك، وأعوذ بك أن تجعل أحدا (أسعد) (٥) بما علمته مني، اللهم لا تخزني فإنك بي عالم، اللهم لا تعذبني فإنك علي قادر.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوغیلان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف ابن الشخیر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں آپ سے بادشاہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس چیز کے شر سے جس پر ان کے قلم چلیں۔ اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات کی کہ میں ایسا حق بولوں جس سے میں آپ کی فرمانبرداری کے سوا کچھ طلب کروں اور میں آپ سے مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں لوگوں کے سامنے کسی ایسی چیز کے ذریعہ زینت حاصل کروں جو مجھے آپ کے ہاں بدنما کردے اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے آپ سے آپ کی نافرمانی پر مدد طلب کروں۔ اور میں اس بات سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی کے لیے عبرت بنادیں۔ اور میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ میرے جاننے والوں میں سے کسی کو مجھ سے زیادہ خوش بخت کردیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے رسوا نہ کرنا۔ کیونکہ آپ مجھے جانتے ہیں۔ اے اللہ ! آپ مجھے عذاب نہ دینا کیونکہ آپ مجھ پر قادر ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ع]: (الأخواص).
(٢) في [أ، ب]: (ابن).
(٣) في [أ، ب]: (الشيطان)، وانظر: الليلة ٢/ ٢٠٧، وتاريخ دمشق ٥٨/ ٣٢٦.
(٤) في [أ، ب، س]: (لأقولها).
(٥) في [أ، ب]: (سعد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37849
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37849، ترقيم محمد عوامة 36264)