حدیث نمبر: 37847
٣٧٨٤٧ - حدثنا عباد بن العوام عن عاصم عن فضيل بن زيد الرقاشي قال: لا (يُلهك) (١) الناسُ عن نفسك، فإن الأمر يصل إليك (دونهم) (٢)، ولا تقل: اقطع عنا اليوم بكذا وكذا، فإنه محصيٌ عليك جميعَ ما عملت في ذلك، ولم (نرَ) (٣) شيئا أسرع إدراكا ولا أحسن طلبا من حسنة (حديثة) (٤) لذنب (عظيم) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن زید رقاشی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ لوگ تجھے تیری ذات سے غافل نہ کردیں۔ کیونکہ (تیرا) معاملہ تیرے ساتھ ہوگا نہ کہ ان کے ساتھ اور تم یہ بات نہ کہو۔ آج کا دن ہم سے یوں یوں گزر گیا۔ کیونکہ تم اس میں جو کچھ کرو گے وہ سارا تمہارے اوپر شمار ہوگا اور تم کسی چیز کو اس نیکی سے زیادہ تیز پانے والا اور اچھا طلب کرنے والا نہیں پاؤ گے جو بڑے گناہ کے بعد ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (يهلك).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، هـ]: (تر).
(٤) في [س]: (حديثيه).
(٥) في [هـ]: (قديم).