حدیث نمبر: 37846
٣٧٨٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثني مالك بن دينار قال: حدثني فلان: أن عامر بن عبد اللَّه كان بالرحبة، وإذا (ذمي) (١) يظلم، قال: فألقى عامر (رداءه) (٢) وقال: ألا (أرى) (٣) ذمة اللَّه (تخفرون) (٤) وأنا حي، (فاستنقذه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن دینار، ایک آدمی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ، اپنے گھر کے صحن میں تھے کہ ایک ذمی پر ظلم ہو رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت عامر نے اپنی چادر پھینک دی اور فرمایا : کیا میں اللہ کے ذمہ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتا رہوں اور میں زندہ رہوں ؟ چناچہ آپ نے اس کو بچا لیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (رمى)، وفي [س، ع]: (دمي).
(٢) في [ب]: (إداره).
(٣) في [ع]: (أري).
(٤) في [أ، ب]: (يبهرون)، وفي [س]: (يخفرونه)، وفي [جـ]: (يستخرون)، وفي [ع]: (يحقرونه).
(٥) في [ع]: (يستنفذه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37846
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37846، ترقيم محمد عوامة 36261)