٣٧٨٤٤ - حدثنا عفان (قال: حدثنا: جعفر بن سليمان) (١) قال: حدثنا سعيد الجريري قال: لما سير عامر بن عبد اللَّه، قال: شيعه أخوانه (فقال) (٢) بظهر المِربد: إني داع فأمنوا، فقالوا: هات فقد كنا (نشتهي) (٣) هذا منك، فقال: اللهم من (ساءني) (٤) وكذب علي وأخرجني من مصري وفرق بيني وبين إخواني: اللهم أكثر ماله وولده وأصح جسمه وأطل عمره.حضرت سعید جریری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا تو ان کے کچھ بھائی ان کی مشایعت کے لیے نکلے۔ چناچہ انہوں نے ظہر مربد میں جا کر کہا : میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہنا۔ بھائیوں نے کہا : مانگیں۔ ہم تو خود آپ سے یہی چاہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے دعا کی : اے اللہ ! جس نے میرے ساتھ برا کیا اور مجھ پر جھوٹ بولا اور مجھے میرے شہر سے جلا وطن کیا اور میرے اور میرے بھائیوں میں جدائی ڈالی، اے اللہ ! تو اس کے مال، اور اس کے اولاد کو زیادہ فرما اور اس کے جسم کو صحت مند رکھ اور اس کی عمر لمبی فرما۔