حدیث نمبر: 37831
٣٧٨٣١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ذكر أبو إسرائيل عمرَ بن عبد العزيز (قال) (١): حدثني علي بن (بَذِيمة) (٢) قال: رأيته بالمدينة وهو أحسن الناس لباسا وأطيب الناس ريحا و (من) (٣) أخيل الناس في مشيته (٤)، [أو (أخيل) (٥) الناس في مشيته] (٦)، ثم رأيته يعد يمشي مشية الرهبان، فمن حدثك أن المشي (سجية) (٧) فلا تصدقه بعد عمر بن عبد العزيز.مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن بذیمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ میں دیکھا تھا۔ وہ سب سے خوبصورت لباس والے تھے۔ اور سب سے عمدہ خوشبو والے تھے۔ اور اپنی چال میں سب سے زیادہ نخرے والے تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد راہبوں کی سی چال چلتے (بھی) دیکھا ہے۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ چال انسان کی فطری عادت ہے تو اس کی عمر بن عبد العزیز کے بعد تصدیق نہ کرنا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (فقال).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (نديمة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ع]: (مشية).
(٥) في [ط، هـ]: (أخبل)، وسقط من: [جـ].
(٦) سقط ما بين المعكوفين في: (جـ).
(٧) في [س، ع]: (شحية).