حدیث نمبر: 37828
٣٧٨٢٨ - حدثنا ابن نمير عن طلحة بن يحيى قال: كنت جالسا عند عمر بن عبد العزيز فدخل عليه عبد الأعلى بن هلال فقال: أبقاك اللَّه يا أمير المؤمنين ما دام (البقاء) (١) خيرا لك، قال: قد فرغ من ذلك يا أبا النضر، ولكن قل: أحياك اللَّه (حياة) (٢) طيبة، وتوفاك مع الأبرار.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس حضرت عبدالاعلیٰ بن ہلال تشریف لائے اور کہا : اے امیر المومنین ! جب تک باقی رہنا آپ کے لیے بہتر ہو۔ اللہ آپ کو باقی رکھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا : اے ابوالنضر ! اس دعا سے تو فراغت ہوچکی ہے۔ لیکن تم یہ دعا کرو۔ اللہ تمہیں طیب زندگی عطا کرے اور تمہیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔

حواشی
(١) في [ب]: (البقي)، وفي [أ]: (البقى).
(٢) في [أ، ب]: (الحياة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37828
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37828، ترقيم محمد عوامة 36244)