٣٧٨٢٧ - حدثنا وكيع عن عبيد (اللَّه) (١) بن مَوْهب عن صالح بن (سعيد) (٢) المؤذن قال: بينما أنا مع عمر بن عبد العزيز بالسويداء فأذنت (العشاء) (٣)، فصلى ثم دخل القصر، فقلما لبث أن خرج، فصلى ركعتين خفيفتين، ثم جلس (فاحتبى) (٤)، فافتتح الأنفال فما زال يرددها ويقرأ، كلما مر (بتخويف) (٥) تضرع، وكلما مر (بآية) (٦) رحمة دعا حتى أذنت للفجر.حضرت صالح بن سعید مؤذن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہمراہ مقام سویداء میں تھا۔ چناچہ میں نے عشاء کی اذان دی اور انہوں نے نماز ادا کی پھر محل میں چلے گئے۔ پھر تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ باہر آگئے پھر دوہل کی سی رکعتیں پڑھیں اور پھر گھٹنے اٹھا کر (احتباء کی حالت میں) بیٹھ گئے۔ اور سورة انفال پڑھنا شروع کردی۔ آپ رحمہ اللہ مسلسل سورة انفال دہراتے رہے اور پڑھتے رہے۔ جب بھی کسی تخویف والی آیت سے گزرتے عاجزی کرتے اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے دعا کرتے۔ یہاں تک کہ میں نے فجر کی اذان دے دی۔