حدیث نمبر: 37825
٣٧٨٢٥ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن (برقان) (١) قال: كتب عمر بن عبد العزيز: أما بعد، فإن (أناسا) (٢) من الناس التمسوا الدنيا بعمل الآخرة. وإن أناسا من القصاص قد أحدثوا من الصلاة على خلفائهم وأمرائهم عدل صلاتهم على (النبي ﷺ، فإذا أتاك كتابي هذا فمرهم أن تكون) (٣) صلاتهم على النبيين، ودعاؤهم للمسلمين عامة، و (يدعون) (٤) ما سوى ذلك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خط لکھا۔ اما بعد ! بیشک کچھ لوگ آخرت کے عمل سے دنیا کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ قصہ گو لوگوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اپنے خلفاء اور امراء پر درود بھیجنے کی بدعت نکال لی ہے۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو حکم دے کہ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء پر درود بھیجیں۔ اور عام مسلمان لوگوں کے لیے دعا ہے اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیں۔

حواشی
(١) في [س]: (برقال).
(٢) في [ع]: (ناسًا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [جـ]: (يدعوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37825
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37825، ترقيم محمد عوامة 36241)