حدیث نمبر: 37824
٣٧٨٢٤ - حدثنا عفان (قال) (١): (حدثنا) (٢) جويرية بن أسماء عن إسماعيل بن أبي حكيم قال: غضب عمر بن عبد العزيز يوما فاشتد غضبه، وكانت فيه حدة، وعبد الملك ابنه حاضر، فلما رأوه قد سكن غضبه قال: يا أمير المؤمنين أنت في قدر نعمة اللَّه عليك، وفي موضعك الذي وضعك اللَّه (فيه) (٣)، وما ولاك اللَّه من أمر عباده يبلغ بك الغضب ما أرى، قال: كيف قلت؟ فأعاد عليه كلامه فقال: أما تغضب يا عبد الملك؟ قال: (٤) ما يغني عني سعة (جوفي) (٥) إن لم (أَرِدد) (٦) فيه الغضب حتى لا يظهر منه شيء أكرهه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسماعیل بن عبدالحکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کو غصہ آیا اور ان کا غصہ شدید ہوگیا اور اس میں کچھ تیزی بھی تھی۔ آپ کا بیٹا عبدالملک موجود تھا۔ چناچہ جب اس نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے تو اس نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ، اپنے اوپر خدا کی نعمت کی قدر کریں اور جس جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رکھا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت کا اختیار دیا ہے تو بندوں کے معاملہ میں آپ کا غصہ جہاں تک پہنچا تھا آپ کو اس کا اختیار نہیں جو میں دیکھتا ہوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : تم نے کیسے یہ بات کہی ؟ چناچہ عبدالملک نے بات دہرائی۔ حضرت عمر نے پوچھا : اے عبدالملک ! تمہیں غصہ نہیں آتا ؟ انہوں نے فرمایا : میری اس وسعت قلبی کا کیا فائدہ ؟ اگر میں اپنے غصہ کو واپس نہ کروں تاکہ اس کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر نہ ہو ؟ “

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (به).
(٤) في [هـ]: زيادة (قال).
(٥) في [أ، ب، س]: (حدثي)، وفي [جـ، ع]: (حدٍ).
(٦) في [أ، ب]: (أزدد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37824
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37824، ترقيم محمد عوامة 36240)