٣٧٨٢٣ - حدثنا عفان بن مسلم (قال) (١): حدثنا جويرية بن أسماء (قال) (٢): حدثنا نافع قال: قال عبد الملك بن عمر لعمر بن عبد العزيز: يا أمير المؤمنين، ما يمنعك أن (تمضي) (٣) للذي تريد، فوالذي نفسي بيده ما أبا لي لو غلت بي وبك فيه القدور، قال: وحق هذا منك يا بني؟ قال: نعم واللَّه، قال: الحمد للَّه الذي جعل لي من ذريتي (من) (٤) يعينني على أمر ربي، يا بني لو (بدهت) (٥) الناس بالذي تقول لم آمن أن ينكروها، فإذا أنكروها لم أجد بدا من السيف، ولا خير في خير لا يأتي إلا بالسيف، يا بني إني أروض الناس رياضة الصعب، فإن يطل بي (عمر) (٦) فإني أرجو أن ينفذ اللَّه لي شيئًا، وإن تعد علي منية فقد علم اللَّه الذي أريد.حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا : اے امیر المومنین ! آپ کو اپنے ارادہ کے پورے کرنے سے کیا شے رکاوٹ ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میرے اور آپ کے ذریعہ ہانڈیاں ابلیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ بات تیری طرف سے درست ہے ؟ عبدالملک نے کہا : جی ہاں، خدا کی قسم ! آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو حکم خداوندی میں میری معاونت کرتا ہے۔ اے میرے بیٹے ! اگر میں یہ بات جو تم نے کہی ہے۔ لوگوں کے پاس اچانک لے کر آتا تو ان کی طرف سے اس بات کے انکار سے مجھے امن نہیں تھا۔ پھر جب وہ انکار کرتے تو میرے لیے تلوار کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اور ایسی خیر میں کوئی بہتری نہیں ہے جو تلوار کے ذریعہ آئے۔ اے میرے بیٹے ! میں لوگوں کے ساتھ مشکل سے قابو آنے والی اونٹنی کو قابو کرنے کی طرح کا معاملہ کررہا ہوں۔ چناچہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے کسی چیز کو نافذ کر دے گا اور اگر مجھ پر موت نے حملہ کردیا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے ارادہ کو جانتے ہیں۔